ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق اردن کی تنظیم عمل اسلامی کے ایک رکن ذکی بنی ارشیدنے جمعہ کے دن اردن کے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے کرنے کی خبر دی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے اطلاحات انجام دینے کے لئےحکومت کو کافی موقع دیا ہے اور جمعہ کو اردن کےدارالحکومت سمیت تمام شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہرے کئے جائیں گے اور ان مظاہروں میں اردن کے بنیادی آئین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں جمہوریت کا فقدان ہے۔ واضح رہے کہ عرب ممالک پر امریکہ نواز عرب ڈکٹیٹر حکومت کررہے ہیں کوئی ڈکٹیٹر 40 سال سے حکومت کررہا ہے کوئی 30 سال سے کوئی 23 سال سے اور بعض تو نسل در نسل حکومت کررہے ہیں اور انھیں کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے لیکن اب عرب ممالک میں اسلامی بیداری پیاد ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ نواز عرب حکمرانوں کے خلاف عوامی موج اور لہر چلی ہے جس میں اب تک تیونس اور مصر کے دو ڈکٹیٹر سرنگوں ہوچکے ہیں لیبیا کے ڈکٹیٹر کی سرنگونی بھی نزدیک ہے اور اردن و یمن و سعودی عرب و بحرین میں بھی لوگ میادن میں اتر آئے ہیں۔ آگے آگے دیگھے ہوتا ہے کیا۔ کیا امریکہ پھر عرب عوام پر اپنے ڈکٹیٹر مسلط کرنے میں کامیاب ہوجائے گا یا یہ کہ ایرانی عوام کی طرح اب عرب عوام امریکہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110